Israel TraveloguePortfolioUrdu

بیت اللحم، دھیشہ کیمپ اور اسرائیل فلسطین مغربی کنارے کی دیوار

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔
قسط نمبر 8

آج ہماری منزل عیسائیت کا مقدس شہر ’بیت اللحم‘ اور اسلام کے لیے مقدس شہروں میں سے ایک ’الخلیل‘ تھا۔ ٹھیک گیارہ بجے عبدالقادر پہنچ چکا تھا۔ عبدالقادر کی وقت کی پابندی کی عادت قابل ِتعریف اور عرب ثقافت سے یکسر مختلف تھی۔ باہر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں اور یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے بادل اب برسے کہ تب۔

’پہلے بیت اللحم چلتے ہیں اور وہاں سے نکل کر ہم سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مرقد پر جائیں گے۔ امید ہے کہ ہمیں عصر کی نماز وہاں مل جائے گی‘، عبدالقادر آج کے دن کا پلان بتا رہا تھا۔بیت اللحم یروشلم کے جنوب اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر واقع شہر ہے جس کی آبادی تقریبا 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور یہاں کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے۔

اسرائیلی حدود سے نکلتے ہوئے اور فلسطینی علاقے میں داخل ہوتے ہوئے جگہ جگہ سرخ رنگ کے بورڈ لگائے گئے ہیں جن پر تنبیہ درج ہے کہ آپ اسرائیلی علاقہ چھوڑ کر فلسطینی علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔یہودیوں کو قانونا ً فلسطینی شہروں اورعلاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح فلسطینی اسرائیل کے زیر ِانتظام علاقوں اور شہروں میں داخل نہیں ہوسکتے۔

فلسطینی حدود میں داخل ہوتے ہوئے تنبیہی بورڈ

ہم ابھی بیت اللحم سے دس پندرہ منٹ کی دوری پر تھے کہ عبدالقادر نے ہمیں بتایا، ’’یہ سامنے’مخیم الدھیشہ‘ ہے یعنی دھیشہ ریفیوجی کیمپ جہاں فلسطینی کئی نسلوں سے آباد ہیں۔ یہ کیمپ 1949ء میں عرب اسرائیل جنگ کے نیتجے میں یروشلم اور الخلیل کے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک عارضی مقام کے طور پر آباد کیا گیا تھا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل چھ روزہ جنگ کے نیتجے میں اس کیمپ کا انصرام اسرائیل کے پاس آگیا۔ مگر 1995ء سے فلسطینی حکام اس کیمپ کو سنبھالتے ہیں‘‘۔


اس آبادی میں عمارتوں کی مخدوش حالت اس کیمپ کے مکینوں کی غربت کا پتہ دے رہی تھی۔ میں نے عبدالقادر سے کچھ دیر ٹھہرنے کا کہا۔ جس گلی میں ہم رکے وہاں ایک اونچی سی مسجد تھی جس کے آگے معمر فلسطینی بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے، جیسے ہمارے گلی محلوں میں گئے وقتوں میں بزرگ اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ ایک نکڑ پر ضعیف عورت سبزیوں کی چھابڑی سنبھالے بیٹھی تھی۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی دکان میں تازہ فلافل (عربی پکوڑے) تیار کیے جا رہے تھے۔ پاس میں ہی ایک اور دکان تھی جہاں فلافل اور شاورمے بن رہے تھے۔ یہ دکان ایک عرب نوجوان خاتون چلا رہی تھیں، مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ میں نے کوشش کی کہ دکان کے اندر جا کر خاتون سے ویڈیو پر کچھ بات کر سکوں یا تصویریں بنا سکوں مگر جواں سال عرب خاتون اس بات پر آمادہ نہ تھیں۔


ہاں سے نکل کر ہم کچھ ہی فاصلے پر اس دیوار کی جانب چل پڑے جو اسرائیل اور فلسطین کو تقسیم کرتی ہے جسے Israeli West Bank Barrier یا مغربی کنارے کو تقسیم کرنے والی دیوار کہا جاتا ہے۔ 440 میل طویل اس دیوار کو اسرئیل ’سیکورٹی بیرئیر‘ جبکہ فلسطینی ’نسلی تعصب پر مبنی رکاوٹ‘ قرار دیتے ہیں یہ دیوار ستمبر 2000ء میں اس وقت بنائی گئی جب اسرائیلی جنرل ایریل شیرون (جو مارچ 2001ء میں اسرائیل کے وزیرِاعظم بھی بنے) نے الحرم الشریف (جسے یہودی Temple Mount کہتے ہیں) کا دورہ کیا۔ اس واقعے کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تشدد اور ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

Israeli West Bank Barrier / WallThe Israeli West Bank barrier or wall is a separation barrier in the West Bank or along the Green Line. Israel considers it a security barrier, while Palestinians call it a racial segregation or apartheid wall.#Israel #Palestine #IsraelPalestineWall

Posted by Madeeha Anwar on Saturday, December 3, 2016
اسرائیل فلسطین کی مغربی کنارے کی دیوار جو شہر بیت الحم کو تقسیم کرتی ہے۔


ہم اب بیت اللحم میں تھے اور اس دیوار کے نقطہ ِآغاز پر کھڑے تھے۔ دیوار پر جا بجا تصویری اور گرافیٹی کی گئی ہے۔ دیوار پر بہت سے ایسے پوسٹر لگائے گئے ہیں جس پر فلسطینیوں نے مختصر کہانیوں میں بیان کیا ہے کہ کس طرح یہ دیوار ان کی زندگیوں کو تقسیم کرنے کا سبب بنی اور کیسے دیوار کے اِس پار رہنے والے لوگ دیوار کے اُس پار رہنے والے اپنے خاندانوں سے ملنے سے قاصر ہیں۔


کچھ دیر یہاں رکنے کے بعد ہم کنیستہ المہد یا Church of Nativity پہنچے جسے مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش مانتے ہیں۔میں اس قطار کا حصہ بن گئی جو چرچ میں داخل ہو رہی تھی۔عیسائی خواتین نے اپنے سر ڈھانپ رکھے تھے۔ اندر داخل ہو کر نیچے تہہ خانے کی طرف اندھیری سیڑھیاں اس مقام کی طرف لے جاتی ہیں جسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسیحی یہاں ماتھا ٹیک رہے تھے اور اس جگہ کو چوم رہے تھے۔ تصویریں کھینچنے اور عقیدت کا اظہار کرنے کے بعد لوگ عقبی دروازے سے باہر کی طرف نکل رہے تھے۔

چرچ سے نکل کر ہم قریبی چوک ’میدان المھد‘ جسے Manger Square کہا جاتا ہے کی طرف چل پڑے، یہ بیت للحم کا اہم سیاحتی مرکز ہے جہاں تنگ گلیوں میں ایک بڑے بازار کے آباد ہونے کے ساتھ اس شہر کی واحد اور سب سے قدیم مسجد ’مسجد ِعمر‘ واقع ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے یروشلم فتح کرنے کے بعد 637 سن ِعیسوی میں بیت اللحم کا دورہ کیا تھا اور وہاں کی مسیحی آبادی کو یقین دلایا تھا کہ ان کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔

بازار میں کپڑے، جوتوں سے لے کر کھانے پینے اور شہر کے یادگاری تحفوں سمیت بہت سی دکانیں موجود تھیں۔ہم نے صراف کی دکان سے سو ڈالر تڑوائے جس کے ہمیں تین سو بہتر شیکلز ملے۔ فلسطین میں دکانداروں سے آپ پاکستان کے دکانداروں کی طرح بھاؤ تاؤ کر سکتے ہیں۔ اور دکاندار کچھ ہی دیر میں دام اپنے بتائے ہوئے دام سے بہت کم کر دیتے ہیں۔ کشمیر سے پشمینہ کا بنا ہوا ایک سکارف جس کی قیمت مجھے دکاندار نے تیس شیکلز بتائی تھی، آخر میں پندرہ شیکلز کا خریدا۔ یہاں پر دکاندار مقامی شیکلز اور امریکی ڈالر دونوں قبول کر لیتے ہیں۔


بیت اللحم سمیت پورے فلسطین اور اسرائیل کی ایک خاص سوغات انار کا رس ہے، جو ہر دوسری تیسری گلی میں کسی نہ کسی ٹھیلے پر آپ کو دکھائی دیتا ہے۔ دس شیکلز میں انار کے جوس کا گلاس ہمیں تازہ دم کرنے کو کافی تھا کہ ابھی ہمارا آدھا سفر باقی تھا اور ہم نے اب فلسطینی شہر ’الخلیل‘ کا رخ کرنا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔



Episode 8 of the Israel/Palestine Travelogue originally posted on VOA Urdu.

Leave a Reply

Your email address will not be published.