Israel TraveloguePortfolioUrdu

یروشلم میں عرب مہمان نوازی

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔
قسط نمبر 4

مسجد ِقبلی سے نکلتے ہوئے نظر سیدھی قبتہ الصخرہ پر کچھ یوں ٹھہرتی ہے کہ انسان مبہوت ہو جاتا ہے۔ اس سنہری گنبد میں یقینا کوئی کشش کوئی جادو ہے جس نے میرے چلتے قدم روک دئیے اور میں کتنی
ہی دیر ایک ٹک اسی گنبد کو تکتی رہی۔۔

قبتہ الصخرہ، وہ مقام جہاں سے نبی ِکریم ﷺ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے

سیڑھیوں پر بیٹھی بوڑھی بھکارن کا سوال مجھے واپس لے آیا، میں نے جلدی سے اسے کچھ ریزگاری پکڑائی اور تیزی سے قدم اٹھاتی گاڑی تک پہنچی جہاں عبد القادر میرا منتظر تھا۔ گاڑی میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی تھی، ’مدیحہ، یہ ’یروشلم بیگل‘ ہے اور یروشلم کی خاص پہچان ہے‘۔ عبدالقادر نے سنہرے رنگ اور بیضوی شکل کی قدرے بڑے حجم کی تل لگی خمیری روٹی پکڑائی جو دکھنے میں ہی نہیں بلکہ ذائقے میں بھی لاجواب تھی۔

ایک نوجوان عرب لڑکا ’یروشلم بیگل‘ (خمیری روٹی) بیچتے ہوئے


ہم اب باب الاسباط سے نکل کر ڈھلان کی جانب ایک تنگ سی سڑک پر جا رہے تھے، یہ وہ راستہ نہ تھا جہاں سے ہم آئے تھے، ’ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘۔ میرے سوال پر عبدالقادر مسکرا دیا، ’کافی چلے گی؟ ہماری صبح کا آغاز کافی کے بغیر ادھورا ہے۔ اور یہ مسجد ِاقصیٰ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر مسلمان اکثیریتی علاقہ سلوان (Silwan) ہے‘۔ گاڑی تنگ سی اونچی نیچی گہری ہوتی سڑک پر دوسری گاڑیوں سے بچتی بچاتی ایک بند موڑ پر جا رکی۔ عبدالقادر نیچے اترا، ہاتھ میں انڈے، ٹماٹر، دھنیا، پنیر اور خُبز (عربی روٹی) پر مشتمل تھیلیاں پکڑ رکھی تھیں۔۔۔ آس پاس بہت سے ننھے منے فلسطینی عرب بچے کندھوں پر بستے لٹکائے اپنے والد کا ہاتھ تھامے سکول کی طرف رواں دواں تھے، کچھ بچے گاڑیوں میں بیٹھے تھے اور سبھی گردن پلٹا کر مجھے حیرت سے تک رہے تھے۔ شاید ان کے لیے میرا چہرہ بہت نیا اور ناشناس تھا۔ آس پاس کی دکانیں عربی کافی کی خوشبو سے مہکنا شروع ہو گئی تھیں۔ سڑک پر موجود دکانوں اور کیفے کے شٹر کھولے جا رہے تھے۔

’مدیحہ، میں آپ کو ایک ایسی جگہ لے جا رہا ہوں جہاں آپ کو یروشلم کی بہترین کافی ملے گی‘۔

میں مسکرا کر اپنے عرب میزبان کے پیچھے چل پڑی۔۔۔ کوئی پچاس ساٹھ سیڑھیاں چڑھ کر بائیں ہاتھ پر پہلا دروازہ عبدا لقادر کے گھر کا تھا۔ میں نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، پہاڑیوں پر چھوٹے بڑے گھر ایستادہ تھے۔ چند گھروں پر اسرائیلی جھنڈا بھی لہرا رہا تھا، گو کہ ایسے گھر اکا دکا ہی تھے۔ سلوان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جو کئی نسلوں سے یہیں آباد ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق سلوان کے علاقے میں بیس سے پچاس ہزار کے قریب فلسیطنی جبکہ پانچ سو سے ڈھائی ہزار کے لگ بھگ یہودی آباد ہیں۔۔۔ 1948 میں اسرائیل اور اردن کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد سلوان اردن کے زیر ِنگیں رہا مگر اردن یہ علاقہ صرف 1967 تک ہی سنبھال سکا اور اسی برس اسرائیل کے ساتھ ہونے والی چھ روزہ جنگ کے نیتجے میں سلوان کا کنٹرول اردن کے ہاتھ سے جاتا رہا۔۔۔ یہاں رہنے والے مسلمان اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں، گو کہ یہ آج بھی خود کو فلسطینی کہتے ہیں۔

’تو یہ ہے میرا غریب خانہ‘، عبدالقادر نے گھر کا دروازہ ایک چھوٹے سے برآمدے میں وا کیا۔۔۔ سامنے بوسیدہ سا تخت تھا اور ساتھ ہی دو تین ٹوٹی کرسیاں دھری تھیں جس پر بیٹھی کالی بلی بڑے غور سے اپنے گھر میں داخل ہونے والی اجنبی مہمان کو تکے جا رہی تھی۔۔۔ جالی کے دروازے سے گھر کے اندر داخل ہوئی تو پہلی نظر دائیں ہاتھ پر کچن میں کھڑی ایک ادھیڑ عمر عورت سے جا ٹکرائی، ’مرحبا مرحبا، انا فاطمہ‘ (خوش آمدید، میں فاطمہ ہوں)۔ یہ عبدالقادر کی اہلیہ تھیں اور گذشتہ چالیس برس سے عبدالقادر کے عقد میں ہیں۔ چہرے پر ایسی معصومیت کہ انسان فدا ہو جائے۔ فاطمہ انتہائی پرتپاک اور خالص عربی انداز (تین بار گلے ملنا اور گالوں پر بوسہ دینا) سے ملی۔ آہستہ آہستہ گھر کے باقی مکین بھی جاگنا شروع ہو گئے۔ عبدالقادر کثیر العیال ہیں، فقط گیارہ بچے ہیں، بڑی بیٹی رعنا 38 برس کی اور سب سے چھوٹے دو جڑواں بیٹے محمود اور وسیم 15 برس کے ہیں جبکہ دو درجن سے زائد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں۔

عبدالقادر کی اہلیہ فاطمہ کے ساتھ شاپنگ کرتے ہوئے

تھوڑی ہی دیر میں کچن کی میز ناشتے سے سج چکی تھی، یروشلم بیگل، خُبز (عربی روٹی)، ٹماٹر، زیتون، پنیر اور زاتر (عربی مصالحہ جسے زیتوں کے تیل میں شامل کیا جاتا ہے) پر مشتمل خالص عربی اور صحت بخش ناشتہ، ناشتے کے ساتھ ساتھ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ عبدالقادر کی انگریزی صاف ہے، بتانے لگا کہ وہ امریکی شہری ہے اور دس برس امریکہ میں گزار چکا ہے جہاں ایک سفید فام خاتون سے شادی بھی کی جو بعد میں طلاق پر ختم ہوئی۔ میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا، ’کیا ٹور گائیڈ کے طور پر آپ معقول رقم کما لیتے ہیں اور گزارہ بآسانی ہو جاتا ہے؟’ یروشلم کے مسلمانوں کی اکثریت سفری رہنمائی، ٹیکسی چلانے یا کسی چھوٹے موٹے دیہاڑی والے کام سے منسلک ہے۔ قلیل وسائل، کم آمدنی اور محدود تر تعلیمی مواقع یروشلم کے عرب مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ ’اللہ کا کرم ہے گزارہ ہو جاتا ہے، میرے بیٹے اور داماد بھی اس کام میں میرا ہاتھ بٹاتے ہیں‘۔

فاطمہ بہانے بہانے سے میری قہوہ کی چھوٹی سی پیالی بھرتی جا رہی تھی۔ انگریزی سے یکسر نابلد تھی اور اس کی گفتگو کا واحد ذریعہ وہ نرم اور پرجوش مسکراہٹ تھی جو ایک لمحے کے لیے بھی اس کے گول اور صبیح چہرے سے معدوم نہ ہوئی تھی۔ اس نے اپنے مترجم (عبدالقادر) کی مدد سے مجھے بتایا کہ وہ کتنی خوش ہے کہ ایک پاکستانی بیٹی اس کے گھر آئی ہے۔ ذرا سی دیر میں عبدالقادر نے تیسرا سگریٹ سلگایا تو فاطمہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے، رعنا نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا کہ ماں کو باپ کا ذرا ذرا سی دیر میں سگریٹ سلگانا بالکل پسند نہیں۔ رعنا کا بڑا بیٹا 18 برس کا ہے اور شوہر امریکہ میں سکونت پذیر۔ ازدواجی معاملات ٹھیک نہیں اس لیے وہ فلسطینی دارالحکومت رملہ میں شوہر کا گھر ہونے کے باوجود زیادہ تر باپ کے گھر پائی جاتی ہے۔ کچھ تھا اس گھرانے میں جو بہت حد تک پاکستانی خاندانی نظام سے ملتا جلتا تھا۔ وہی ایک دوسرے کا خیال اور وہی خاندانی رشتوں کو سنبھالنے، سینتنے اور نبھانے کی عادت۔۔۔ میں قہوے کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ اس سفید پوش مگر مہمان نواز عرب گھرانے کی گفتگو کا سرور بھی لے رہی تھی، جن سے پہلی ملاقات میں ہی اپنائیت بے تکلفی کی حدود کو چھو چکی تھی۔ فاطمہ مجھے قہوہ کی ایک اور پیالی پلانے پر بضد تھی، مگر میں نے تنگی ِوقت کا بہانہ کرکے اس مہربان میزبان سے رخصت چاہی جو ان چالیس منٹ میں ہی مجھے دل و جان سے اپنی بیٹی بنا کر بارہویں اولاد کا درجہ دے چکی تھی۔ طے پایا کہ عبدالقادر مجھے ہوٹل چھوڑ آئے گا اور گیارہ بجے مجھے تیار رہنا ہوگا تاکہ نماز ِجمعہ مسجد ِاقصیٰ میں ادا کی جا سکے۔

ٹھیک گیارہ بجے عبدالقادر نے اپنی آمد کی اطلاع دی، گاڑی میں فاطمہ بھی اپنی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ موجود تھی۔ عبدالقادر نے بتایا کہ نماز ِجمعہ میں فاطمہ میرے ہمراہ ہوگی تاکہ مجھے کسی دقت کا سامنا نہ ہو۔ ہم باب العامود پر اترے جسے انگریزی میں Damascus Gate کہتے ہیں۔ فاطمہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہجوم میں سے چیرتی ہوئی آگے بڑھتی رہی اور تنگ سی گلیوں میں سے راستہ بناتی، کبھی دائیں کبھی بائیں جانب مڑتی رہی۔ ان گلیوں کو دیکھ کر مجھے لاہور اور پنڈی کے اندرون شہر کی یاد آئی، مگر یہ گلیاں ہمارے اندرون شہر کی گلیوں سے زیادہ کشادہ اور انتہائی صاف ستھری تھیں۔ کہیں پر گٹر نہیں ابل رہے تھے اور کہیں پر گندگی نہیں پھیلی تھی۔ جگہ جگہ پھل اور خوانچہ فروش اپنی مختصر دکانیں اور چھابڑی سجائے بیٹھے تھے۔ قدم قدم پر یہاں آپ کا واسطہ بھکاریوں سے بھی پڑتا ہے، چھوٹے چھوٹے بچے آپ کا دامن پکڑے کسی نہ کسی چیز کی خریداری پر اصرار بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم احاطہ ِمسجد ِ اقصیٰ میں موجود تھے۔ میں مسجد ِ قبلی کی طرف قدم بڑھانے لگی تو فاطمہ نے میرا ہاتھ زور سے دبا کر قبتہ الصخرہ کی طرف اشارہ کیا۔ معلوم ہوا کہ مرد حضرات مسجد ِقبلی جبکہ خواتین قبتہ الصخرہ میں نماز ِجمعہ ادا کرتی ہیں (گو کہ قبتہ الصخرہ مسجد نہیں ہے)۔۔۔
میں اور فاطمہ بھی قبتہ الصخرہ میں داخل ہونے والی خواتین کے ہجوم کا حصہ بن گئے۔

#DomeoftheRock or #QubbatasSakrah (in arabic) is the most recognized symbol of #Jerusalem in the world. This is the place from where #ProphetMuhammad (SAW) was taken to the heavens. The Dome of the Rock was built on the order of Ummayyad Caliph Abdul Malik. I always wanted to go to Jerusalem and see this place. This is indeed a dream come true and I'm still unable to believe that I'm actually in Jerusalem and visiting this Holy place from where Prophet Muhammad ascended to heavens.کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ#MasjideAqsa #Alquds #Jerusalem #Muslims #Islam

Posted by Madeeha Anwar on Saturday, December 3, 2016
یہ وڈیو بئر الارواح سے بنائی گئی۔

قبتہ الصخرہ کے اندر خواتین کا بے تحاشا رش تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ اچانک میری نظر سامنے لکڑی کے فریم میں ایستادہ ایک چٹان پر پڑی۔ روایات کے مطابق یہ وہ چٹان ہے جس پر نبی ِکریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے براق کے ذریعے معراج کی رات آسمانوں کا سفر طے کیا تھا۔ چند روایات کے مطابق جب براق نے اس چٹان سے نبی ِکریم صل اللہ علیہ وسلم کی سواری کی اڑان بھری تو چٹان شدت ِجذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور براق کے ہمراہ بلند ہونے لگی تب جبرئیل امین علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے چٹان پر اپنا دست ِمبارک رکھ کر اسے روکا۔ اس چٹان پر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ہاتھ کے نشان اور براق کے قدموں کے نشان واضح دکھائی دیتے ہیں۔۔۔

میں چٹان کو دکھ رہی تھی کہ فاطمہ نے مجھ سے ابلاغ کا واحد ذریعہ استعمال کرتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا۔ میں فاطمہ کے پیچھے چل پڑی اور چند قدموں بعد ہی ایک غار نما کمرے کی سیڑھیوں پر کھڑی  انگریزی کہا جاتا ہے۔ ​تھی۔۔۔ یوں سمجھیئے یہ تہہ خانہ یا غاز نما کمرہ چٹان کا زیریں حصہ ہے۔ یہ جگہ ’بئر الارواح‘ کہلاتی ہے۔ well of souls کہا جاتا ہے۔ ​


Episode 4 of the Israel/Palestine Travelogue originally posted on VOA Urdu.

Leave a Reply

Your email address will not be published.